روزہ آپکو کرونا سے بچا سکتا ہے! مگر کیسے؟

ویسے  ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کے لئے مسلمانوں کو کسی طبی یا سائنسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن کچھ لوگ یہ ضرور پوچھتے ہیں کہ روزےکا صحت پر کیا اثر پڑتا ہے ، اور یہ کس طرح سے ممکن ہےکہ 16 گھنٹے تک کھانا کھاتے بغیر صحت مند کیسے رہا جا سکتا ہے

روزہ آپکو کرونا سے بچا سکتا ہے
روزہ اللہ کی نعمت ہے

اس سلسلے میں متعدد تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں ، کہ تھوڑی مقدار میں کھانا اور زیادہ دیر تک نہ کھانا نہ صرف بڑھتے وزن کے لئے فائدہ مند ہے ، بلکہ یہ خون کے بہاؤ کو بہتر بنا کر بلڈ پریشر اور کولیسٹرول جیسی بیماریوں میں بھی فائدہ مند  ہے۔

!جی ہاں

سائنس جریدے اینالز اینڈ نیوٹریشن اینڈ میٹابولزم میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ، 16 سے 18 گھنٹوں تک   نہ کھانے سے انسانی جسم میں لیپوپروٹین اور ٹرائگلیسرائڈ میں 30 فیصد کمی واقع ہوگی۔

اوریاد رکھیں کہ یہ دونوں اجزا انسان میں وزن بڑھانے ، بشمول کولیسٹرول اور چربی میں اضافہ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق ، اتنے عرصے تک بھوک برداشت کرنے سے انسانی جسم میں لیپوپروٹین (ایچ ڈی ایل) کی مقدار میں 14. فیصد اضافہ ہوتا ہے ، جس سے انسانی دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کیا جاتا ہے۔

محققین نے 18 گھنٹے کے بعد بھوکے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ دودھ ، خشک میوہ جات ، کھجوریں ، گھرکا پکا ہوا کھانا ، پھل اور سبزیوں کا زیادہ استعمال کریں۔

مزید براں، ماہرین نے ایسے لوگوں کو فاسٹ فوڈ اور زیادہ چکنائی والی چیزیں کھانے سے دور رہنے کی سفارش کی ہے۔

یاد رہے کہ ماہرین نے یہ تحقیق روزہ رکھنے پر نہیں بلکہ بھوکے افراد پر کی ہے۔

اس طرح ، روزہ دار لوگ اس تحقیق کو پڑھے بغیر 16 سے 18 گھنٹوں تک کوئی کھانا نہیں کھاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ وزن میں اضافے ، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

!سبحان اللہ

اس کے علاوہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ روزہ جسم کو خون کے نئے خلیے بنانے کے لئے متحرک کرتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک ، میڈیکل سائنس میں ، یہ سوچا جاتا تھا کہ نظام ہاضمہ کو ٹھیک کرنے کے لئے روزہ ایک مفید ہتھیار ہوسکتا ہے۔

 لیکن جدید طب کے ماہرین اس حقیقت کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ روزہ رکھنا ایک حیرت انگیز طبی علاج ہے جو نہ صرف انسان کے دفاعی نظام کو نئی شکل دے سکتا ہے بلکہ پورے مدافعتی نظام کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

امریکی سائنس دانوں نے اس تحقیق کو دنیا میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل تین دن تک روزہ رکھنے سے جسم کے قوت مدافعت کے نظام کو مکمل طور پر تجدید کیا جاسکتا ہے۔

 کیونکہ روزہ جسم کو خون کے نئے خلیے بنانے کے لئے متحرک کرتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ، روزہ مدافعتی نظام کو بحال کرنے کا ایک بٹن ہے جو جب دب جاتا ہے تو ، خلیوں کو سفید خون کے خلیوں کی تشکیل کا اشارہ دیتا ہے ، جو انسان کو بیماری اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔

 یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی یہ تحقیق کینسر کے مریضوں اور ناکارہ مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ، خاص طور پر بزرگ جن کا مدافعتی نظام عمر بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔

محقیقین کا کہنا تھا کہ ، “روزہ کینسر یا عمر کی وجہ سے خراب مدافعتی نظام کو نئے مدافعتی نظام میں بدل سکتا ہے۔”

اورجیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ پوری دنیا کو کرونا کی وبا نے جکڑا ہوا ہے اورڈاکٹر اکژ مشورہ دیتے ہیں کہ کرونا سے بچنے کے لیے آپ اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنایے رکھیں۔

تو اس صورت حال میں روزہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ تو اگر آپ کرونا سے بچنا چاھتے ہیں تو گھر میں روزے کا اہتمام پابندی سے کریں اور کرونا سے محفوظ رہیں

گھر میں رہیں، صحت مند رہیں

Asif Alee

Asif Alee is a freelance researcher and writer in the field of Alternative Medicine, Natural Health, Food, and Nutrition.He is passionate about helping people improve and maintain their health by using Natural Food and Remedies composed of Natural Herbs.When he’s not writing, he enjoys swimming, cycling, and hanging out with his friends and family.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *